8 اکتوبر 2012 - 20:30

مسلح دہشت گردوں نے آج صبح پاراچنار سے پشاور جانے والی مسافر گاڑی پر چھپری کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں ہی، فائرنگ کردی جس سے تین افراد زخمی ہوگئے اور گاڑی کو نقصان پہنچا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج صبح پاراچنار سے ایک مسافر فلائنگ کوچ پشاور جارہی تھی کہ ملک دشمن دہشت گردوں نے تور غر کے علاقے میں چھپری چیک پوسٹ کے قریب پاراچنار سے پشاور جانے والی ویگن پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین افراد کاظم حسین، منیر حسین اور عارف حسین زخمی ہوگئے جنہيں فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے ابتداء میں گاڑی پر راکٹ فائر کیا جو گاڑی کو نہ لگا جس کے بعد انھوں نے گاڑی اور اس میں بیٹھے مسافروں پر اندھادھند فائرنگ کی۔

یاد رہے کہ یہ سب حملے حکومت کی جانب سے طالبان اور کرم ایجنسی کے شیعہ عوام کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرانے کے بعد مسلسل جاری ہیں جن کی تعداد 20 سے زائد ہوگئی اور جبکہ حال ہی میں پاراچنار شہر میں ایک پرہجوم علاقے میں ایک خودکش کار دھماکہ بھی کیا گیا جس کے بعد ملک دشمن دہشت گردوں کے پسماندگان فاتحہ کے لئے مرکزی امام بارگاہ پہنچے اور یوں وہ بات رفع دفع کی گئی اور 22 کے قریب شہداء کا خون پامال کیا گیا اور حتی کہ حکومت سے اس حوالے سے نہ صرف احتجاج نہیں کیا گیا بلکہ مقامی حکام کو گویا صاحب سوگ و عزا سمجھا گیا چنانچہ دہشت گردوں کو تسلی ہوگئی کہ اب وہ پھر بھی وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو گذشتہ چھ برسوں سے کرتے آئے ہیں کیونکہ یہاں سے مزاحمت تو کیا احتجاج کی صدا بھی نہيں سنائی دے رہی ہے۔

ادھر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اور پاکستان کے "آزاد ذرائع ابلاغ"، "آزاد عدلیہ"، "روشن خیال سول سوسائٹی"، "جمہوری حکومت" نیز انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر ممالک اور قوموں کو بلیک میل کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی ادارے بھی پاراچنار پر گذرنے والے ان تمام حالات پر خاموش ہیں گویا یہاں انسان نہيں رہتے اور ان کو مارنے والے انسانوں کی محبت میں خودکش دھماکے کر رہے ہیں۔

............